ممبئی میں خاندان کی پراسرار موت: تحقیقات جاری، شکوک و شبہات گہرے
ممبئی: اپریل کی 25 تاریخ، 2026، ایک ایسا دن جب ممبئی کے پےدھونی علاقے میں ایک خاندان کے چار افراد، جن میں شوہر، بیوی اور ان کی دو بیٹیاں شامل تھیں، پراسرار طور پر موت کے منہ میں چلے گئے۔ عبداللہ دوکاڈیا، ان کی اہلیہ نسرین، اور بیٹیوں عائشہ اور زینب کی موت نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا اور پولیس کے لیے ایک ناقابلِ فہم معمہ بن گئی۔ ابتدائی طور پر کھانے میں زہر کی افواہیں گردش کر رہی تھیں، خاص طور پر رات کے کھانے میں تربوز کی مشترکہ نوشی کے بعد، لیکن اب تحقیقات نے ایک نیا اور تشویش ناک رخ اختیار کر لیا ہے۔
تربوز کا نظریہ کمزور پڑا
شروع میں، شبہات کا رخ تربوز کی جانب تھا، لیکن فرانزک اور لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج نے اس نظریہ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی رپورٹ کے مطابق، خاندان کی جانب سے کھائے جانے والے تربوز، بریانی اور دیگر اشیاء میں کسی قسم کے نقصان دہ اجزاء، مصنوعی رنگ یا کیمیکلز کی ملاوٹ نہیں پائی گئی۔ ان نتائج نے پولیس کو اس امکان سے دور کر دیا ہے کہ تربوز ہی موت کی وجہ ہو۔
زہر کے امکانات اور دیگر پہلو نمایاں
اب تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے اور زہر کا اندیشہ سب سے نمایاں صورت اختیار کر گیا ہے۔ ابتدائی فرانزک رپورٹوں نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، مقتولین کے کچھ اعضاء، بشمول دماغ، دل اور آنتیں، میں ایک غیر معمولی سبز رنگت پائی گئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عام فوڈ پوائزننگ کی صورت میں نہیں ہوتا اور کسی زہریلے مادے کے اثر کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
ایک اور پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ عبداللہ دوکاڈیا کے جسم سے مورفین، ایک طاقتور درد کش دوا، کے آثار بھی ملے ہیں۔ حکام اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا یہ ان کی سابقہ طبی علاج، حادثاتی استعمال، یا کسی غلط ارادے کا نتیجہ ہے۔ پولیس تفصیلی فرانزک اور ہسٹوپیتھولوجیکل رپورٹس کا انتظار کر رہی ہے، جن سے موت کی اصل وجہ معلوم ہونے کی توقع ہے۔
خودکشی یا قتل؟ تحقیقات جاری
ممبئی پولیس نے حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر لیا ہے، لیکن خودکشی یا قتل کے امکان کو بھی رد نہیں کیا گیا ہے۔ اس مکمل تحقیقات کے تحت، مقتولین اور دیگر خاندان کے افراد کے موبائل فونز بھی فرانزک تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں تاکہ موت سے قبل کوئی ڈیلیٹ کیا گیا ڈیٹا یا فارمیٹنگ تو نہیں کی گئی۔ جن رشتہ داروں نے خاندان کے ساتھ کھانا کھایا تھا اور وہ محفوظ رہے، ان کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے ہیں۔
ابتدائی طور پر، خاندان کسی مالی پریشانی کا شکار نظر نہیں آتا تھا، اور بیٹیوں کی ذاتی ڈائریوں میں بھی کسی خاندانی مسائل کا ذکر نہیں تھا۔ اگرچہ عبداللہ کو گردے کی کچھ تکلیف تھی اور نسرین کو تھائیرائیڈ کا مسئلہ تھا، لیکن یہ بیماریاں اتنی شدید نہیں تھیں کہ اتنی بڑی وبا کا سبب بن سکیں۔ پولیس بینک اسٹیٹمنٹس اور فون ریکارڈز سمیت تمام پہلوؤں کی چھان بین کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں کوئی پوشیدہ دباؤ یا تنازعہ تو اس سانحہ کا باعث نہیں بنا۔
یہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حکام اس رات کے واقعات کی مکمل وضاحت اور دوکاڈیا خاندان کی پراسرار موت کی حقیقت سامنے لانے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔
