تمل ناڈو: ڈی ایم کے کا اے آئی اے ڈی ایم کے پر نظر، بائیں بازو کی آرزو، وی سی کے کے ہاتھ میں راز

تمل ناڈو کی سیاست میں نئی کروٹ: ڈی ایم کے کا اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد پر غور، بائیں بازو اور وی سی کے جماعتیں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار

تمل ناڈو کی سیاسی فضا میں ایک نئے اتحاد کی بحث چھڑی ہوئی ہے، جس کے مطابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے آل انڈیا انا ڈریوڈا منینٹرا کازگھم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کی حمایت سے ایک حکومت قائم کرنے کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ودو تھیلائی چرووتھائی کچچی (وی سی کے) کے سربراہ سے بھی رابطے کیے ہیں، جس کے بعد یہ جماعتیں سیاسی منظر نامے کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، وزیر اعلیٰ اسٹالن نے بدھ کے روز اپنے گھر پر ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سیکریٹری پی شانمُگھم، سی پی آئی کے ریاستی سیکریٹری ایم ویر پانڈین، اور وی سی کے کے رہنما تھول تھرومavalavan کو مدعو کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ نے ایک ایسی حکومت کی تشکیل کا خیال پیش کیا جسے ڈی ایم کے کی حمایت حاصل ہو اور جس میں اے آئی اے ڈی ایم کے بھی شامل ہو۔ یہ پیش رفت آنے والے سیاسی موڑوں سے قبل ایک پیچیدہ بین الجماعتی مذاکراتی حکمت عملی کا اشارہ دے رہی ہے۔

اس وقت کی سیاسی سرگرمیاں دراصل اے آئی اے ڈی ایم کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ معلوم ہوتی ہیں۔ یہ جماعت طویل عرصے سے شدید تقسیم کا شکار ہے، جس میں مختلف دھڑوں کے رہنما اقتدار کے لیے طویل قانونی اور سیاسی جنگوں میں مصروف رہے ہیں۔ اس اندرونی چپقلش نے جماعت کی مجموعی طاقت کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ اتحاد یا انتخابی مقابلے میں متحد ظاہر ہونے کی اس کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔

تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نمایاں قوت کے طور پر، ڈی ایم کے بائیں بازو کی جماعتوں اور وی سی کے کے ساتھ دانشمندی سے رابطہ کر رہی ہے۔ اگرچہ ان جماعتوں کا انتخابی دائرہ کار انفرادی طور پر محدود ہے، لیکن وہ اپنے اپنے ووٹروں میں نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں اور اتحاد کے حساب کتاب میں کافی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی حمایت کو وسیع انتخابی مینڈیٹ کو مضبوط بنانے اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اکثر ضروری سمجھا جاتا ہے۔

سی پی آئی (ایم) اور سی پی آئی، اپنی منظم ڈھانچوں اور نظریاتی کشش کے ساتھ، ووٹروں کے ایک ایسے طبقے کی نمائندگی کرتی ہیں جو سماجی انصاف اور سیکولرازم کو ترجیح دیتا ہے۔ تھول تھرومavalavan کی قیادت میں وی سی کے، پسماندہ طبقات کے حقوق کی آواز اٹھاتی ہے اور دلت اور دیگر پسماندہ طبقات میں اس کی مضبوط حمایت ہے۔ ڈی ایم کے کے ساتھ ان کا تاریخی اتحاد عام ہے، لیکن ڈی ایم کے کی حمایت یافتہ اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت کے بارے میں بات چیت میں ان کی براہ راست شمولیت ایک زیادہ وسیع اور ممکنہ طور پر پیچیدہ بندوبست کی نشاندہی کرتی ہے۔

سیاسی حلقوں میں موجود ذرائع کا خیال ہے کہ ڈی ایم کے کا یہ اقدام متعدد مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ہو سکتا ہے۔ اوّل، یہ ممکنہ اتحادی جماعتوں کو ایک وسیع حکومتی فریم ورک میں شامل کر کے اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے، جس سے ان کی مسلسل حمایت حاصل ہو سکے۔ دوئم، اے آئی اے ڈی ایم کے کو شامل کرنے والے اتحاد کے امکان پر غور کر کے، ڈی ایم کے اپنے بنیادی اپوزیشن جماعت کے اندرونی معاملات کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ ایسی چال سے اے آئی اے ڈی ایم کے کے اندر طاقت کا دوبارہ سے انتظام ہو سکتا ہے، یا یہ موجودہ تقسیم کو مزید بے نقاب اور بڑھا سکتا ہے۔

اے آئی اے ڈی ایم کے، جو روایتی طور پر تمل ناڈو میں ایک مضبوط سیاسی قوت رہی ہے، سابق رہنما جے جے للیتا اور ایم کروناندھی کے انتقال کے بعد قیادت کے بحران اور گروہ بندیوں سے نبرد آزما رہی ہے۔ او. پنیرسلوام اور ای. پلانیسامی کے زیر قیادت دھڑوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش، اور حال ہی میں ٹی. ٹی. وی. دنارن کی حمایت یافتہ اما مکل منیرترو کازگھم (اے ایم ایم کے) کے ابھرنے نے جماعت کے ووٹ شیئر اور تنظیمی طاقت کو fragmented کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں