مشرقی گھاٹس میں نباتات کی ایک نئی قسم دریافت: اناملائی یونیورسٹی کے اسکالرز کی اہم تحقیق
جنوبی ہندوستان کے مشرقی گھاٹس کے دامن میں واقع سرسبز و شاداب علاقے میں، اناملائی یونیورسٹی کے ماہرین نباتات نے ایک نئی پودے کی قسم دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ انکشاف خطے کی بھرپور نباتاتی تنوع کو مزید اجاگر کرتا ہے اور حال ہی میں اس اہم پہاڑی سلسلے میں دریافت ہونے والی نئی اقسام کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔
مشرقی گھاٹس، جو ہندوستان کے مشرقی ساحل کے ساتھ ساتھ پھیلی ہوئی ایک سلسلہ وار پہاڑیاں ہیں، ہمیشہ سے حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت سے مانی جاتی رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں، یہ علاقہ سائنس کے لیے نامعلوم کئی اقسام کا مسکن ثابت ہوا ہے۔ گزشتہ سال نومبر 2024 میں، انڈیا کے بوٹینیکل سروے کے ماہرین نے ناگرجناساگر-سرسیلم ٹائیگر ریزرو میں "Dicliptera srisailamica” نامی ایک پودے کی قسم دریافت کی۔ یہ دریافت دنیا بھر میں اس جینس (Dicliptera) کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے، جس میں ہندوستان 29 اقسام کا حامل ہے، جن میں سے آٹھ مقامی ہیں۔
ریاست آندھرا پردیش میں مزید تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ وہاں نباتاتی خزانے پائے جاتے ہیں۔ 2024 کے آخر میں، سیپلا پہاڑیوں کے خشک اور پتھریلے جنگلات میں "Crinum andhricum” نامی ایک پھولدار پودا دریافت ہوا۔ یہ پودا Amaryllidaceae خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی خصوصیات میں موم جیسے سفید پھول اور ایک گچھے میں بڑی تعداد میں پھولوں کا ہونا شامل ہے، جو اسے دیگر متعلقہ اقسام سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ پودا خشک، پتھریلی دراڑوں میں اگتا ہے اور انسانی سرگرمیوں اور جنگلات کی آگ سے خطرے میں ہے۔
مزید برآں، مئی 2026 میں، سائنسدانوں نے مشرقی گھاٹس کے علاقے آندھرا پردیش میں تین انتہائی خطرے سے دوچار پودوں کی اقسام کی نشاندہی کی: "Euphorbia ananthapuramensis”، "Euphorbia chalamensis”، اور "Ceropegia andhrica”۔ یہ دریافتیں وسیع پیمانے پر میدانی سروے کے بعد کی گئیں اور نادر پودوں کی نازک حالت کو نمایاں کرتی ہیں۔ سری ستیا سائی ضلع میں پایا جانے والا "Euphorbia ananthapuramensis” ایک جھاڑی نما پودا ہے جسے مقامی قبائلی برادریاں ادویاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، لیکن یہ گرینائٹ کی کان کنی اور جنگلات کی آگ سے خطرے میں ہے۔ اسی طرح، نندیال ضلع میں پایا جانے والا "Euphorbia chalamensis” اور اللوری سیتاراما راجو ضلع میں دریافت ہونے والا "Ceropegia andhrica” چھوٹے پودے ہیں جن کے ادویاتی خواص یا خوردنی جڑیں ہیں اور یہ دونوں رہائش گاہوں کی تباہی اور انسانی سرگرمیوں سے شدید خطرات کا شکار ہیں۔
اناملائی یونیورسٹی کے اسکالرز کی حالیہ دریافت، جسے ابتدائی طور پر "Cyphostemma annamalaii” کا نام دیا گیا ہے، اس کی منفرد ادویاتی خصوصیات کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ دریافت خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ نباتاتی تحقیق میں تعلیمی اداروں کی خدمات کو اجاگر کرتی ہے۔ "Cyphostemma annamalaii” مشرقی گھاٹس کے جنوبی حصے میں پایا گیا ہے، جو نباتاتی تحقیق کے لیے ایک اہم علاقہ ہے۔ مشرقی گھاٹس، جو اڑیسہ، آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو اور کرناٹک کے کچھ حصوں پر محیط ہیں، متنوع جنگلاتی اقسام اور مرطوب اشنکٹبندیی مون سون آب و ہوا کی خصوصیات رکھتے ہیں، جو پودوں کی ایک وسیع رینج کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، جن میں بہت سی مقامی اقسام شامل ہیں۔
مشرقی گھاٹس میں جاریہ دریافتیں تحفظ کی کوششوں کی فوری ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ ان نئی دریافت شدہ اقسام میں سے بہت سی محدود جغرافیائی تقسیم کی حامل ہیں اور پہلے ہی IUCN ریڈ لسٹ کے معیار کے تحت انتہائی خطرے سے دوچار قرار دی جا چکی ہیں۔ رہائش گاہوں کی تباہی، جنگلات کی کٹائی، حد سے زیادہ استحصال، چراگاہی، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے خطرات ان منفرد پودوں کی آبادی کے لیے سنگین خط
