دہلی کے علاقے جانکپوری میں ایک نجی اسکول میں ننھے طالب علم کے مبینہ طور پر جنسی تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے والدین اور بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران اسکول کے ایک ملازم کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم اسے مقامی عدالت سے ضمانت مل گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، متاثرہ بچی کی والدہ نے پولیس کو باقاعدہ شکایت درج کرائی، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ بچی کی والدہ کا الزام ہے کہ ان کی تین سالہ بیٹی کو اسکول کے اوقات کے دوران ایک نامعلوم مرد ملازم نے مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں کیا۔ پولیس نے متاثرہ کی شناخت کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا تھا۔
شکایت کے بعد، جانکپوری تھانے میں بھارتی فوجداری ضابطہ (Indian Penal Code) اور بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون (POCSO Act) کے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں بھارتی نیا سنہتا (Bharatiya Nyaya Sanhita – BNS) کی دفعہ 64(1) شامل کی گئی ہے، جو سنگین چوٹ اور حملہ سے متعلق ہے، اور POCSO ایکٹ کی دفعہ 6، جو کہ بچے کے ساتھ جنسی فعل سے متعلق ہے۔
استغاثہ کی سخت مخالفت کے باوجود، ملزم ملازم کو جمعرات کے روز دوارکا کی ایڈیشنل سیشن جج (ASJ) عدالت سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کے تحریری حکم نامے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے مکمل جائزہ کے بعد مزید کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت کے پروٹوکولز پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
جانکپوری، جو کہ مغربی دہلی کا ایک گنجان آباد علاقہ ہے، یہاں متعدد نجی اور سرکاری اسکول موجود ہیں، جس کی وجہ سے ان احاطوں میں بچوں کی حفاظت ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ یہ واقعہ اسکول کے عملے کے پس منظر کی مکمل چھان بین اور تمام تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے مضبوط نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ POCSO ایکٹ بچوں کو جنسی استحصال اور بدسلوکی سے بچانے کے لیے ایک قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، اور اس کے تحت درج مقدمات کو عدلیہ کی جانب سے انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
ایسے الزامات کے بعد قانونی عمل میں تفصیلی تحقیقات، شواہد اکٹھے کرنا اور عدالتی کارروائی شامل ہوتی ہے۔ ضمانت کی منظوری، خاص طور پر نابالغوں اور جنسی تشدد کے الزامات سے متعلق مقدمات میں، مختلف عوامل پر مبنی عدالتی صوابدید کا معاملہ ہے۔ استغاثہ کی جانب سے ضمانت کی مخالفت، ملزم کے خلاف کیس کی مضبوطی پر یقین کو ظاہر کرتی ہے، جس کی بنا پر عدالت کا ضمانت دینے کا فیصلہ پولیس اور متاثرہ خاندان کے لیے مزید غور طلب ہے۔
دہلی پولیس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ الزامات کی مکمل تحقیقات کو یقینی بنائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ عدالت کی جانب سے حکم نامے کے جائزے کا نتیجہ قانونی کارروائی کے اگلے مراحل طے کرنے میں اہم ثابت ہوگا۔ کمیونٹی مزید پیش رفت کا انتظار کر رہی ہے، جبکہ تفتیش جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد بچے کے لیے انصاف کو یقینی بنانا اور قومی دارالحکومت کے تمام اسکولوں میں حفاظتی معیار کو بلند کرنا ہے۔
