مرکزی حکومت نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، غیر مستقل ملازمین اور مستقل ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے۔ اس قانون کے تحت، ملازمین کی تنخواہ، چھٹیوں اور طبی سہولیات کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یہ نئے ضابطے، جنہیں ‘ماڈل اسٹینڈنگ آرڈرز 2026’ کا نام دیا گیا ہے، فوراً نافذ العمل ہوں گے اور 1946 کے پرانے قوانین کی جگہ لیں گے۔
ان نئے ضابطوں میں ملازمین اور مالکان کی ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے۔ مزدوروں کو سات مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں مستقل، عارضی، اپرنٹس، پروبیشنر، بدلی، فکسڈ ٹرم اور کیژول ورکر شامل ہیں۔ فکسڈ ٹرم ملازمین کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جن کے تحت ان کی تنخواہ، الاؤنس اور کام کے اوقات مستقل ملازمین کے برابر ہوں گے۔ انہیں متناسب بنیادوں پر قانونی فوائد بھی حاصل ہوں گے اور ایک سال کی سروس کے بعد گریجویٹی کا حقدار ٹھہریں گے۔
تمام ملازمین کو ایک شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا جس میں ان کا نام، عہدہ، ملازم نمبر، بلڈ گروپ، رابطے کی معلومات اور ایمرجنسی رابطوں کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ کام کے دوران یہ کارڈ پہننا لازمی ہوگا۔ حاضری کا اندراج ہر شفٹ کے آغاز اور اختتام پر لازمی ہوگا، جس کے لیے شناختی کارڈ، بائیو میٹرکس یا دیگر منظور شدہ طریقوں کا استعمال کیا جائے گا۔
مالکان کو شفٹوں کے اوقات کار میں تبدیلی کے لیے کم از کم 21 دن کا پیشگی تحریری نوٹس دینا ہوگا۔ یہ نوٹس نوٹس بورڈ پر آویزاں کیا جائے گا اور کسی بھی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کے سیکرٹری کو بھی فراہم کیا جائے گا۔ تاہم، ہنگامی صورتحال یا حکومتی احکامات کی صورت میں استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔
مزدوروں کو سالانہ 10 دن کی کیژول چھٹی ملے گی، جس میں زیادہ سے زیادہ تین مسلسل دن کی چھٹی کی اجازت ہوگی، جب تک کہ بیماری یا کوئی ناگزیر مجبوری نہ ہو۔ چھٹیوں کی درخواستیں کم از کم سات دن قبل جمع کرانا ہوں گی۔
تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی مخصوص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ روزانہ اجرت لینے والے ورکرز کو ہر شفٹ کے اختتام پر، ہفتہ وار اجرت لینے والے کو ہفتے کے آخری یوم پر، پندرہ روزہ اجرت لینے والے کو پندرہ دن کے اختتام کے دو دن کے اندر، اور ماہانہ اجرت لینے والے کو اگلے مہینے کی سات تاریخ تک ادائیگی کی جائے گی۔ تمام تنخواہوں کی ادائیگی الیکٹرانک طور پر مزدور کے بینک اکاؤنٹ میں کی جائے گی۔ برخاستگی، کٹوتی یا استعفیٰ کی صورت میں، تمام بقایاجات دو کام کے دنوں کے اندر ادا کیے جائیں گے۔
مالکان کو ہر ملازم کا ایک سروس کارڈ رکھنا ہوگا جس میں تاریخ پیدائش، ملازمت کی تاریخ، تعلیمی قابلیت، فیملی کی معلومات، ترقی، اور ریٹائرمنٹ کی تاریخ جیسی تفصیلات شامل ہوں۔ ملازمت ختم ہونے پر، ملازمین کو 10 دن کے اندر کام کی نوعیت، عہدہ اور ملازمت کی مدت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا حق ہوگا۔
ریٹائرمنٹ کی عمر 58 سال ہوگی، جب تک کہ ملازم اور مالک کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ نہ ہو۔ ملازمت میں منتقلی کے لیے ایک واضح پالیسی ہونی چاہیے۔ ملازمین کو محکمہ، اسٹیشن یا ایک ہی مالک کے ماتحت مختلف اداروں میں منتقل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ان کی تنخواہ، گریڈ اور ملازمت کی شرائط متاثر نہ ہوں۔
ملازمت کے دوران زخمی ہونے والے ملازمین کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے گی۔ دورانِ ملازمت زخمی ہونے والے ملازمین کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے گی۔ نئے ملازمین کو نوکری کے آغاز میں طبی معائنہ کرانا ہوگا، جس کا خرچہ مالک برداشت کرے گا۔ متعدی امراض میں مبتلا ملازمین کو ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر کام پر نہیں آنا ہوگا۔
بدعنوانی، دھوکہ دہی، جان بوجھ کر حکم عدولی، غیر حاضری، نشہ، لڑائی جھگڑا، فرائض میں غفلت، اور کام میں سستی بدعنوانی کے زمرے میں آئیں گی۔ جنسی ہراسانی کی شکایات پر بھی کارروائی کی جائے گی۔
سروس سیکٹر کے ملازمین کے لیے "ورک فرام ہوم” کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت وہ گھر سے یا کسی اور دور در
