دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے تنازعات، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی آفات اور اقتصادی بدحالی کے نتیجے میں دنیا کی سب سے زیادہ کمزور آبادیوں کو سنگین بحران کا سامنا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، سال 2026 انسانیت کے لیے ایک ایسے مرحلے کا گواہ بن رہا ہے جہاں کئی گونا گوں انسانی بحران ایک ساتھ ابھر کر سامنے آئے ہیں، جن میں بین الاقوامی امداد میں کمی اور فنڈنگ کی قلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
صومالیہ، جو کہ پہلے ہی برسوں کے تنازعات، خشک سالی اور ناقص حکمرانی کا شکار ہے، اب بھی سنگین انسانی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ امریکہ، جو کہ ایک بڑا امدادی ملک ہے، نے صومالیہ کو بھاری امداد فراہم کی ہے، جس میں سالانہ کروڑوں ڈالر انسانی امداد، اقتصادی ترقی اور امن و سلامتی کے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ تاہم، امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں بھی آتی رہی ہیں۔ 2026 کے اوائل میں، امریکہ نے صومالیہ کو امداد معطل کر دی تھی، جب یہ الزامات سامنے آئے کہ وہاں کی حکام نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے موغادیشو بندرگاہ پر ہونے والے کاموں میں رکاوٹ ڈالی، جس میں امریکہ کی فنڈنگ سے بنے ایک گودام کو تباہ کرنے اور امدادی خوراک کو ضبط کرنے جیسے الزامات شامل تھے۔ اگرچہ صومالیہ کی جانب سے جوابدہی تسلیم کرنے کے بعد امریکہ نے امداد کی معطلی ختم کر دی، لیکن اس واقعے نے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کی نازک صورتحال کو اجاگر کیا۔
عالمی سطح پر انسانی ضرورت کا مجموعی منظر نامہ انتہائی تشویشناک ہے۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ دنیا بھر میں تنازعات زیادہ پرتشدد اور طویل ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں، وسیع پیمانے پر نقل مکانی اور بھوک میں اضافے کا ریکارڈ قائم ہو رہا ہے۔ انٹرنل ڈسپلیسمنٹ مانیٹرنگ سینٹر (IDMC) کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں پہلی بار قدرتی آفات کے مقابلے میں جنگوں اور تشدد کے باعث اندرونی نقل مکانی زیادہ ہوئی۔ تنازعات نے 32.3 ملین افراد کی نقل مکانی کو جنم دیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 60% زیادہ ہے، جبکہ قدرتی آفات کے باعث 29.9 ملین افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ 2025 کے آخر تک، جنگ کی وجہ سے تقریباً 68.6 ملین افراد اپنے گھروں سے دور رہ رہے تھے۔
نازک اور تنازعات سے متاثرہ علاقے اب عالمی سطح پر انتہائی غربت کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ عالمی بینک کا تخمینہ ہے کہ کم آمدنی والے لگ بھگ دو تہائی ممالک کو نازک یا تنازعات سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں فی کس آمدنی جمود کا شکار ہے اور اوسط عمر دوسرے ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ ان علاقوں میں آبادی کا ایک بڑا حصہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، اور دنیا کے بہت سے بھوک کے مراکز میں تنازعات کو بھوک کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی امداد، خاص طور پر یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (USAID) جیسی ایجنسیوں کی جانب سے، ان بحرانوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ USAID کے پروگراموں میں اچانک کٹوتیاں، جیسا کہ گزشتہ برسوں میں نافذ کی گئیں، افریقہ کے امداد یافتہ ممالک میں تشدد میں نمایاں اضافے سے منسلک رہی ہیں، جو امداد میں اچانک رکاوٹوں کے عدم استحکام پیدا کرنے والے اثرات کو واضح کرتا ہے۔ محققین نے نوٹ کیا ہے کہ وسائل کی واپسی سے اہم معاہدے، عملہ اور امداد کی خریداری میں خلل پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ امداد پر انحصار کرنے والے علاقوں میں تنازعات میں مستقل اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ تمام متاثرہ علاقوں کے لیے حالیہ فنڈنگ کے مخصوص اعداد و شمار ابتدائی رپورٹ میں تفصیل سے نہیں بتائے گئے، لیکن گزشتہ اعداد و شمار ان میں سے بہت سے بحرانی علاقوں میں انسانی اور ترقیاتی امداد کے لیے امریکہ کے بڑے وعدوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
متعدد بحرانوں کا یہ امتزاج، یعنی تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور اقتصادی عدم استحکام، ایک ایسا طوفان برپا کر رہا ہے جو لاکھوں افراد کو مزید غربت میں دھکیل رہا ہے اور ان کی کمزوری کو بڑھا رہا ہے۔ ضرورتوں کا پیمانہ بہت وسیع ہے، اور دسی
