کوپن ہیگن، 24 ستمبر (چناب ٹائمز) — ڈنمارک کے شمالی شہر میں واقع آلبورگ ایئرپورٹ کو بدھ کی رات ڈرونز کی غیرقانونی پرواز کے بعد بند کر دیا گیا۔ ایک ہی ہفتے میں یہ دوسرا موقع ہے جب ڈنمارک کے کسی بڑے ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل ہوئیں۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
شمالی جٹ لینڈ پولیس کے مطابق ڈرونز کو ایئرپورٹ کے قریب دیکھا گیا، جس کے بعد رات بھر آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی اور پروازیں جمعرات کی صبح چھ بجے (مقامی وقت) بحال ہوئیں۔ اس دوران اسکاڈینیوین ایئرلائنز، نارویجین اور کے ایل ایم کی کم از کم چار پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں سے تین کو ہنگامی طور پر دوسری منزلوں پر بھیجا گیا۔
یہ ایئرپورٹ ڈنمارک کی فضائیہ کے لیے فوجی اڈے کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایئرپورٹ کے اطراف جانے سے گریز کریں۔ چیف انسپکٹر یسپر بویگارڈ میڈسن نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا ممکن نہیں کہ ڈرونز کس مقصد سے اڑائے گئے اور اس کے پیچھے کون ہے۔ ان کے مطابق ڈرونز پر روشنیاں لگی ہوئی تھیں اور زمین سے صاف نظر آ رہے تھے۔
اس سے قبل پیر کو دارالحکومت کے کاسٹرپ ایئرپورٹ کو بھی بڑے ڈرونز کی موجودگی پر چار گھنٹوں کے لیے بند کرنا پڑا تھا، جس کے باعث پچاس پروازیں منسوخ یا دوسری جگہ بھیجی گئیں اور ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔ اس واقعے کو ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈریکسن نے "ملکی بنیادی ڈھانچے پر اب تک کا سب سے سنگین حملہ” قرار دیتے ہوئے اسے روسی ہائبرڈ خطرات سے جوڑا تھا۔ تاہم ماسکو نے الزامات کو "بے بنیاد” قرار دیا۔
یہ واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جب نیٹو نے حال ہی میں استونیا، پولینڈ اور رومانیہ کی فضاؤں میں روسی ڈرونز کی پروازوں پر انتباہ جاری کیا۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا، "ہم ایک دفاعی اتحاد ہیں لیکن سادہ لوح نہیں، جو کچھ ہو رہا ہے ہم سب دیکھ رہے ہیں۔” اتحاد نے اپنے اجلاس میں روسی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے فضائی حدود کے دفاع کے لیے تمام فوجی اور غیر فوجی ذرائع استعمال کرنے کا اعلان کیا۔
ڈنمارک پولیس ناروے کے حکام سے بھی رابطے میں ہے، جہاں کچھ روز قبل اوسلو ایئرپورٹ پر بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ البتہ فوری طور پر دونوں واقعات میں کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔ اس وقت کوپن ہیگن ایئرپورٹ پر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
