نئی دہلی، 26 ستمبر (چناب ٹائمز) — وزارتِ داخلہ نے ماحولیاتی کارکن اور معروف سماجی رہنما سونم وانگچک کی این جی او اسٹودنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ (ایس ای سی ایم او ایل) کا غیر ملکی فنڈنگ لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب لیہ میں پرتشدد مظاہروں کے دوران چار افراد جان سے گئے اور ستر سے زائد زخمی ہوئے۔
وزارت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ایف سی آر اے قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے شواہد ملنے کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ حکم نامہ وزارتِ داخلہ کے ڈپٹی سیکریٹری راجیش کمار ٹی کے دستخط سے جاری کیا گیا، جس کے مطابق ایس ای سی ایم او ایل کو اگست میں شوکاز نوٹس بھیجا گیا تھا، مگر ادارے کا جواب "غیر تسلی بخش” قرار پایا۔
سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ادارے کے فنڈ اکاؤنٹ میں کئی مشکوک رقوم جمع کی گئیں، جن میں غیر ملکی عطیات کی غلط انٹریاں، مقامی فنڈز کا غیر قانونی استعمال اور غیر ملکی گرانٹس کے مقاصد کا مبینہ طور پر "قومی مفاد کے منافی” ہونا شامل ہے۔
ادھر، وانگچک نے اس اقدام کو "انتقامی کارروائی” اور "چُپ کرانے کی کوشش” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں سے ملنے والی فیس پر تمام ٹیکس ادا کیے گئے ہیں اور ان کے بقول یہ کارروائی لداخ میں جاری سیاسی بحران کو دبانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ وانگچک نے اسی ماہ ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبے پر 15 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔ حکومت نے حالیہ تشدد کی ذمہ داری اُن کے "اشتعال انگیز بیانات” پر ڈالی ہے، تاہم سماجی حلقے اس موقف کو متنازع قرار دے رہے ہیں۔
اس فیصلے کے بعد ایس ای سی ایم او ایل اب بیرونِ ملک سے آنے والی امداد حاصل نہیں کر پائے گی، جس سے اس کے کئی تعلیمی و ثقافتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
