ڈوڈہ، 27 ستمبر — عام آدمی پارٹی کے واحد رکن اسمبلی اور ریاستی صدر مہراج ملک نے جیل سے پیغام دیتے ہوئے اپنے حلقہ انتخاب ڈوڈہ ایسٹ میں عوامی ترقیاتی کاموں کو بغیر رکاوٹ جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ پیغام ہفتہ کی شام ان کے ذاتی معاون کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ "محترم ایم ایل اے نے آج ہدایت دی ہے کہ تمام محکمے ان کی غیر موجودگی میں ترقیاتی کام بند نہ کریں اور عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے تعاون جاری رکھیں۔ ہماری ٹیموں کو بھی عوامی شکایات سننے اور محکموں کے ساتھ مل کر انہیں حل کرنے کے لیے میدان میں جانا ہوگا۔”
مہراج ملک، جو اکتوبر 2024 کے اسمبلی انتخابات میں جیتنے کے بعد جموں و کشمیر میں عام آدمی پارٹی کے پہلے منتخب رکن اسمبلی بنے، آٹھ ستمبر سے کٹھوعہ جیل میں قید ہیں۔ انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت "امن عامہ میں خلل ڈالنے” کے الزام پر حراست میں لیا گیا، جس اقدام کو حزبِ اختلاف نے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
ملک کی گرفتاری کے خلاف ڈوڈہ اور بھلیسہ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں عوام نے فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ عدالت عالیہ جموں و کشمیر و لداخ نے 24 ستمبر کو ان کی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی، جس پر اگلی پیشی 14 اکتوبر کو ہوگی۔
سیاسی حلقوں نے ایک موجودہ رکن اسمبلی کے خلاف پی ایس اے کے استعمال کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام کو جمہوری اقدار کے منافی کہا، جب کہ عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں بشمول سنیل سنگھ نے خصوصی اسمبلی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مہراج ملک نہ صرف اپنی رہائی بلکہ پانچ کروڑ روپے کے معاوضے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، جن کے مطابق ان کی گرفتاری "جانبدارانہ اور بدنیتی پر مبنی” ہے۔ اس مقدمے نے یونین ٹیریٹری میں حراستی قوانین کے استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
