نئی دہلی، 3 اکتوبر — مشہور ماہرِ ماحولیات اور میگسے سے ایوارڈ یافتہ سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے ان کی فوری رہائی کے لیے بھارت کی سپریم کورٹ میں ہیبیس کارپس پٹیشن دائر کر دی ہے۔ درخواست میں یونین آف انڈیا اور وزارتِ داخلہ کے سیکریٹری کو فریق بنایا گیا ہے اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گرفتاری کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود نہ تو ان کی صحت اور حالت کے بارے میں کوئی اطلاع دی گئی ہے اور نہ ہی گرفتاری کی بنیاد واضح کی گئی ہے۔
ایڈووکیٹ سروامتم کھرے کی وساطت سے جمع کرائی گئی اس پٹیشن (ڈائری نمبر 56964/2025) میں کہا گیا ہے کہ وانگچک کو 26 ستمبر کو لیہ کے اپنے گاؤں سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب چھٹے شیڈول کے تحت قبائلی حقوق اور لداخ کی ریاستی حیثیت کے مطالبے پر مظاہرے پرتشدد ہو گئے تھے۔ ان مظاہروں میں چار شہری ہلاک اور پچاس سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ وانگچک کے بیانات نے مظاہرین کو اکسانے کا کام کیا۔ اسی بنیاد پر ان کے این جی او سیسمول کا ایف سی آر اے لائسنس بھی منسوخ کر دیا گیا، جبکہ لیہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
گیتانجلی انگمو نے 3 اکتوبر کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا: “میں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ آج ایک ہفتہ گزر گیا مگر مجھے اب تک سونم وانگچک کی صحت یا ان پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔”
اس بیان پر کئی نمایاں شخصیات نے ردِعمل دیا۔ رکنِ پارلیمان وویک ٹانکھا نے وانگچک کو “گاندھیائی اقدار کی علامت” قرار دیا اور لیفٹیننٹ گورنر کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ ایک اور قانونی ماہر نے کہا کہ این ایس اے کے تحت پانچ دن کے اندر گرفتاری کی وجوہات بتانا لازمی ہے جو اس کیس میں نہیں کیا گیا، جس سے یہ معاملہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بن جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 1980 کا نیشنل سکیورٹی ایکٹ کسی بھی فرد کو بارہ ماہ تک بغیر مقدمے کے حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم اس کے تحت گرفتاری کی وجوہات پانچ دن میں بتانا لازمی ہے۔
اس سے قبل، گیتانجلی انگمو نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو بھی خط لکھا تھا جس میں انہوں نے لداخ کی ماحولیاتی نازکی کا حوالہ دے کر اپیل کی تھی کہ اس معاملے پر ہمدردی سے غور کیا جائے۔ ان کا الزام تھا کہ ان کے ادارے ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹِوز پر بھی نگرانی کی جا رہی ہے اور عملے کے دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ابھی تک مرکزی حکومت یا وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس درخواست یا الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
