دہلی کے لال قلعہ کے نزدیک 10 نومبر کو ہونے والے کار دھماکے کے مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر النبی کی ایک ویڈیو تفتیش کے دوران برآمد ہوئی ہے، جس میں وہ خودکش حملوں کو اسلام میں “شہادت کی کارروائی” قرار دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ ویڈیو ڈاکٹر عمر کی خود ریکارڈ کردہ ہے۔ وہ ایک کمرے میں تنہا بیٹھے انگریزی میں بات کر رہے ہیں اور خودکش حملے کو “غلط سمجھا گیا تصور” بتاتے ہوئے اسے مذہبی طور پر جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
ویڈیو میں ڈاکٹر عمر کہتا ہے: “خودکش حملہ دراصل شہادت کا عمل ہے… جیسا کہ اسلام میں اسے جانا جاتا ہے۔”
ذرائع کے مطابق تفتیش کاروں کو یہ ریکارڈنگ پرانی ڈیجیٹل فائلوں کی چھان بین کے دوران ملی۔
تحقیق سے جڑی معلومات کے مطابق ڈاکٹر عمر اس ویڈیو میں یہ استدلال پیش کرتا ہے کہ خودکشی ممنوع ہے، لیکن “شہادت کی کارروائی” اس سے مختلف ہے کیونکہ اس میں “مقررہ وقت اور جگہ پر یقینی موت کو قبول کیا جاتا ہے۔” وہ یہ بھی کہتا ہے کہ “موت کا صحیح لمحہ کوئی نہیں جانتا، سوائے اس کے کہ وہ پہلے سے لکھا ہو۔”
ڈاکٹر عمر النبی کو تفتیشی ایجنسیوں نے دھماکے میں استعمال ہونے والی کار کا ڈرائیور قرار دیا ہے۔ ڈی این اے سیمپلنگ کے ذریعے اس کی شناخت اس کی والدہ سے میچ کی گئی تھی۔ اس دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ ویڈیو ڈاکٹر عمر کی نظریاتی جہت کو ظاہر کرتی ہے اور یہ ریکارڈنگ غالباً حملے سے پہلے کی ہے، تاہم اس کی تاریخ کی تصدیق کی جارہی ہے۔
