ویتنام کے وسطی صوبوں میں لگاتار بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد تباہی کی صورتحالتشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے، اور حکومت کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 90 تک جا پہنچی ہے جبکہ ایک درجن افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
سرکاری ماحولیاتی وزارت نے اتوار کو بتایا کہ سب سے زیادہ جانی نقصان پہاڑی صوبے ڈک لَک میں ہوا، جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 60 سے زائد افراد بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی نذر ہوئے۔
دی چناب ٹائمز کو موصول معلومات کے مطابق کئی علاقوں میں بارش ایک ہزار نو سو ملی میٹر سے تجاوز کر گئی — جو عام طور پر پورے سال کی بارش کے برابر ہے۔ وسطی ویتنام، جو دنیا کے بڑے کافی پیداواری خطوں میں شمار ہوتا ہے، میں ہزاروں مکانات پانی میں ڈوب گئے اور مجموعی طور پر اڑھائی لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا۔
لوگوں کو نکالنے کے لیے سکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیموں نے کشتیوں کے ذریعے چھتوں اور درختوں پر پھنسے افراد کو باہر نکالا۔ جیالائی، خانہ ہوآ اور بنہہ ڈنہ صوبوں میں ہسپتال بھی پانی میں گھر گئے تھے جہاں مریض کئی دن محدود غذائی امداد پر گزارا کرتے رہے۔ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ طبی عملے تک خوراک اور پانی پہنچانے میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں۔
حکومت نے ابتدائی اندازوں میں معاشی نقصان 8.98 ٹریلین ڈانگ (تقریباً 341 ملین امریکی ڈالر) بتایا ہے۔ قومی اعدادوشمار دفتر کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2025 تک شدید موسمی واقعات ملک بھر میں پہلے ہی دو سو اناسی ہلاکتوں اور دو ارب ڈالر سے زیادہ مالی نقصان کا سبب بن چکے تھے۔
لاپتہ افراد کے بارے میں حکام نے کسی تازہ پیش رفت کی اطلاع جاری نہیں کی۔
