جنوبی افریقی ملک نامیبیا میں ایک ایسے سیاست دان، جن کا نام تاریخی طور پر متنازع جرمن آمر سے ملتا ہے، پارلیمانی انتخابات میں دوبارہ کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔
59 سالہ ایڈولف ہٹلر اُؤنونا، جو حکمران جماعت سواپو (ایس ڈبلیو اے پی او) کے امیدوار ہیں، اب تک اپنی نشست پر بھاری اکثریت کے ساتھ سبقت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
دی چناب ٹائمز کو موصول تفصیلات کے مطابق اُؤنونا نے 2020 کے انتخابات میں اوموپانڈا حلقے سے 85 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ ان کی جماعت سواپو 1990 میں آزادی کے بعد سے مسلسل اقتدار میں ہے اور اس برس ہونے والے عام انتخابات میں بھی غالب قوت سمجھی جا رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کے اندازے کے مطابق 27 نومبر کو ہونے والے ووٹ میں اُؤنونا ایک بار پھر اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ مقامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی مقبولیت کا تعلق اُن کے ترقیاتی کاموں اور علاقے میں سماجی رابطے سے ہے، نہ کہ ان کے غیر معمولی نام سے۔
ایڈولف ہٹلر اُؤنونا ماضی میں کئی بار وضاحت کر چکے ہیں کہ ان کے نام کا نازی نظریے یا جرمن تاریخ کے المیے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا ہے،
"میرا نام تو محض ایک تاریخی اتفاق ہے۔ نہ میرا نظریہ ہٹلر جیسا ہے، نہ میری سوچ میں تشدد یا نسل پرستی کی کوئی گنجائش۔”
نامیبیا میں ایسے غیر مانوس یورپی ناموں کا استعمال نوآبادیاتی دور میں ہونے والی عیسائی بپتسمہ کی روایات سے جڑا ہے، جب مشنری اکثر یورپی نام مقامی بچوں کو دیتے تھے۔ اسی وجہ سے "ایڈولف” یا "ہٹلر” جیسے نام بعض خاندانوں میں رائج ہو گئے، جن کا نازی ازم سے کوئی تعلق نہیں۔
اگرچہ ان کے نام نے بین الاقوامی سطح پر دلچسپی اور حیرت ضرور پیدا کی ہے، لیکن مقامی سطح پر ان کی شناخت ایک سنجیدہ عوامی نمائندے کے طور پر برقرار ہے۔
سواپو جماعت یا اُؤنونا نے فی الحال کسی نئے بیان یا انتخابی منشور پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
