کینسر کے خلاف عالمی جنگ میں اسپین کے محققین نے ایک غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ اسپین کے ’نیشنل کینسر ریسرچ سینٹر‘ (سی این آئی او) کے سائنسدانوں نے لبلبے کے کینسر (پینکریاٹک کینسر) کے علاج کے لیے تین ادویات پر مشتمل ایک نیا تجرباتی طریقہ کار دریافت کیا ہے، جس کے ذریعے لیبارٹری میں چوہوں کے اندر موجود رسولیوں (ٹیومرز) کا مکمل خاتمہ کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ علاج کے بعد کینسر دوبارہ نہیں لوٹا اور اس کے مضر اثرات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، یہ تحقیق معروف جریدے ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ (پی این اے ایس) میں شائع ہوئی ہے۔ لبلبے کا کینسر، جسے طبی اصطلاح میں ’پی ڈی اے سی‘ کہا جاتا ہے، دنیا کے مہلک ترین کینسرز میں شمار ہوتا ہے، جس کا علاج انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ ادویات کے خلاف جلد مزاحمت پیدا کر لیتا ہے۔ تاہم، ڈاکٹر ماریانو بارباسڈ کی سربراہی میں ٹیم نے تنہا دوا استعمال کرنے کے بجائے "سہ جہتی طریقہ علاج” (تین ادویات کا ملاپ) کی تکنیک اپنائی۔
اس طریقہ کار میں تین مختلف اجزاء کا استعمال کیا گیا: ڈاراکسونراسیب (کے-راس جین روکنے والی دوا)، افاتینیب (پھیپھڑوں کے کینسر میں استعمال ہونے والی دوا) اور ایس ڈی 36 (پروٹین کو ختم کرنے والا کیمیکل)۔ جب ان تینوں کو ملا کر استعمال کیا گیا تو انہوں نے کینسر کے خلیات کے بچنے کے تمام راستے بیک وقت بند کر دیے۔
تحقیق کے دوران تین مختلف اقسام کے چوہوں پر تجربات کیے گئے، جن میں وہ چوہے بھی شامل تھے جن میں انسانی لبلبے کے ٹیومر ٹرانسپلانٹ کیے گئے تھے۔ نتائج حیران کن رہے؛ ایک تجربے میں علاج کے بعد 250 دنوں تک چوہوں میں ٹیومر دوبارہ ظاہر نہیں ہوا۔ اسی طرح انسانی ٹیومر والے 18 میں سے 16 چوہوں میں کینسر مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
ڈاکٹر بارباسڈ، جو کینسر کے شعبے (آنکولوجی) میں تحقیق کے سرخیل مانے جاتے ہیں، نے بتایا کہ ماضی میں صرف ’کے-راس‘ (کے آر اے ایس) جین کو نشانہ بنانے کی کوششیں ناکام رہی تھیں کیونکہ کینسر متبادل راستے ڈھونڈ لیتا تھا۔ لیکن اس نئے ’مشترکہ طریقہ علاج‘ نے کینسر کو چاروں طرف سے گھیر کر ختم کیا۔
اگرچہ یہ نتائج انتہائی امید افزا ہیں اور مریضوں کے لیے ’امید کی ایک نئی کرن‘ ہیں، تاہم محققین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تجربات ابھی صرف جانوروں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ انسانوں پر اس کی طبی آزمائشیں (کلینیکل ٹرائلز) شروع کرنے سے پہلے مزید تحقیق اور حفاظتی معیارات کی جانچ پڑتال میں کچھ وقت درکار ہوگا۔ ماہرین کے مطابق لبلبے کے کینسر کی تشخیص اکثر آخری مراحل میں ہوتی ہے، اس لیے یہ پیش رفت مستقبل میں لاکھوں جانیں بچانے کا سبب بن سکتی ہے۔
