جموں؍؍جموں یونیورسٹی کے سینٹر فار ویمنز اسٹڈیز نے ڈبلیو گاندھی نگر کے اشتراک سے ”جینڈر بیسڈ سائبر وائلنس” کے موضوع پر ایک فکر انگیز اور معلوماتی بیداری ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد خواتین کو ڈیجیٹل دنیا میں درپیش خطرات، ان کے قانونی حقوق اور خود کو محفوظ رکھنے کے طریقوں سے آراستہ کرنا تھا۔
پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی آئی پی ایس افسر اور اوراین الیس یونٹ 1 کی پرنسپل یونٹ آفیسر نے شرکت کی۔ انہوں نے خواتین کو سائبر فضا میں اپنے خلاف ہونے والے جرائم کو پہچاننے اور قانونی چارہ جوئی سے نہ گھبرانے کی تلقین کی۔ ڈاکٹر گگن کوندر، پرنسپل پی الیس ڈبلیو گاندھی نگر نے بھی پروگرام میں شرکت کی اور اس امر پر زور دیا کہ سائبر جرائم کے خلاف قانونی تدارک کے لیے آگے بڑھنا ناگزیر ہے۔
پروفیسر سرتیر نے خواتین کے خلاف سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی اقسام پر تفصیلی روشنی ڈالی جن میں آن لائن ہراسانی، سائبر اسٹاکنگ، شناخت کی چوری، ڈیجیٹل بلیک میلنگ اور نجی تصاویر کا غیر اخلاقی استعمال شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل دنیا جہاں بے شمار مواقع لے کر آئی ہے وہیں خواتین کے لیے نئے اور پیچیدہ خطرات بھی پیدا کر رہی ہے اور یہ جرائم محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ صنفی امتیاز کی ایک جدید اور خطرناک شکل ہیں۔
انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 اور بھارتیہ نیائے سنہتا کے تحت خواتین کو حاصل قانونی تحفظات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آن لائن ہتک عزت، فحش مواد کی اشاعت، رازداری کی خلاف ورزی اور سائبر اسٹاکنگ جیسے جرائم ان قوانین کے تحت قابلِ سزا ہیں اور متاثرہ خواتین کو بلا جھجک قانونی مدد لینی چاہیے۔
ڈاکٹر سرنجیت کور نے پروگرام کا تفصیلی تعارف پیش کیا جبکہ شعبہ سوشیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر سورج معنی نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ خواتین کو ڈیجیٹل خطرات کے بارے میں شعور دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ ورکشاپ اسی سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں طالبات اور اساتذہ نے شرکت کی۔ سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء نے اپنے تجربات بیان کیے اور ماہرین نے ان کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔ اختتام پر تمام مقررین، شرکاء اور معاونین کا شکریہ ادا کیا گیا۔
