اوگینڈا: امریکی امداد سے بننے والے ایبولا کلینکس کے بارے میں لاعلمی کا اظہار
یوگینڈا کے حکام نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ آیا امریکہ کی حکومت نے ان کے ملک میں ایبولا کے علاج کے لیے کوئی مخصوص کلینکس بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوگینڈا اور پڑوسی ملک جمہوری کانگو میں ایبولا کے پیش نظر 50 کلینکس کے قیام میں مدد فراہم کرے گا۔
خبر رساں ادارے ‘دی چناب ٹائمز’ کے ذرائع کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے اس اعلان کا مقصد ان علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا تھا جو ایبولا جیسی مہلک بیماری کے پھیلاؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام دونوں ممالک میں بیماری سے نمٹنے کی صلاحیت اور تیاری کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جمہوری کانگو میں ایبولا وائرس کی بیماری (EVD) ایک بڑا صحت کا مسئلہ رہی ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں اس کی کئی بڑی وبایں پھوٹ چکی ہیں۔ یوگینڈا، جو جمہوری کانگو کے ساتھ ایک طویل اور غیر محفوظ سرحد کا حامل ہے، کو بھی اس بیماری کے تیزی سے پھیلنے کے خطرات کا سامنا رہا ہے اور اس نے اپنے خود کے نگرانی اور ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا ہے۔
امریکہ ہمیشہ سے صحت کے شعبے میں ایک اہم عالمی شراکت دار رہا ہے اور متعدی امراض سے لڑنے اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قابل ذکر وسائل فراہم کرتا آیا ہے۔ اس طرح کے کلینک بنانے کے منصوبے عموماً صحت کے کارکنوں کی تربیت، طبی سامان کی فراہمی اور تشخیص کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے وسیع تر منصوبوں کا حصہ ہوتے ہیں۔
تاہم، یوگینڈا کے حکام میں اس معاملے کے بارے میں معلومات کی کمی بین الاقوامی امدادی پیکجوں کے بارے میں ہم آہنگی اور رابطے کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہے۔ وزارت صحت کے ایک سینئر اہلکار نے، جس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کہا کہ "میں ان کلینکس کے بارے میں نہیں جانتا جن کا وہ ذکر کر رہے ہیں۔” یہ بیان امریکی سفارت کاروں، خطے میں کام کرنے والی بین الاقوامی صحت تنظیموں اور وزارت صحت کے درمیان رابطے کے خلیج کی نشاندہی کرتا ہے۔
صحت عامہ کے ہنگامی حالات میں موثر رابطے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ جب امدادی منصوبوں کا اعلان کیا جاتا ہے، تو یہ ضروری ہے کہ جن کو فائدہ پہنچنا ہے اور جو اسے نافذ کریں گے، وہ ابتدا ہی سے مکمل طور پر باخبر اور شامل ہوں۔ اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ وسائل درست سمت میں استعمال ہوں، مقامی ضروریات کا صحیح اندازہ لگایا جائے، اور جو ڈھانچہ تیار کیا جائے وہ قومی صحت کی حکمت عملیوں اور صلاحیتوں کے مطابق ہو۔
جمہوری کانگو نے ایبولا کی بدترین وباؤں کا تجربہ کیا ہے، جن میں 2018 سے 2020 تک جاری رہنے والی ایک طویل وبا بھی شامل ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ ملک کا وسیع رقبہ، مشرقی علاقوں میں پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال اور آبادی کی نقل و حرکت جیسے عوامل نے اکثر بیماری پر قابو پانے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یوگینڈا بھی چوکنہ رہا ہے، اسے اپنے چھوٹے پیمانے پر ایبولا کے واقعات اور جمہوری کانگو سے قربت کی وجہ سے متعدد انتباہات کا سامنا رہا ہے۔ ملک نے سرحدوں پر اور کمیونٹیز کے اندر نگرانی کے نظام میں سرمایہ کاری کی ہے تاکہ ممکنہ کیسز کا تیزی سے پتہ لگایا جا سکے اور انہیں الگ کیا جا سکے۔ بین الاقوامی مدد، جب مؤثر طریقے سے مربوط ہو، ان کوششوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا بیورو آف گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی اینڈ ڈپلومیسی عام طور پر اس طرح کے بین الاقوامی صحت امدادی پروگراموں کے انتظام کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ان پروگراموں میں اکثر سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) جیسی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون شامل ہوتا ہے اور یہ اکثر کثیر الجہتی تنظیموں کے ذریعے یا براہ راست قومی وزارت صحت اور مقامی شراکت داروں کو پہنچایا جاتا ہے۔
یہ عدم واقفیت مختلف عوامل کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اعلان سفارتی سطح پر کیا گیا ہو اور یوگینڈا کی وزارت صحت کے ساتھ تفصیلی رابطے کے بغیر۔ یا پھر، معلومات ایسے ذرائع سے پہنچائی گئی ہو جو کلینکس کی ترقی یا نگرانی کے ذمہ دار مخصوص حکام تک نہ پہنچ سکی ہوں۔
متعدی امراض
