پونے کا سموسہ اسٹال: نوجوان کی محنت، بن گئی مستقل دکان

پونے میں ایک نوجوان کا سستے سموسوں کا اسٹال اب ایک باقاعدہ دکان بن گیا ہے، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک بڑی کامیابی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ یہ کہانی ہمت، محنت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک دلکش مثال ہے۔

ہیمانت نیشاد نامی ایک 12ویں جماعت کے طالب علم نے اپنے بہن بھائیوں، نیلو دیوی اور نلیش کے ساتھ مل کر پونے کے علاقے ہینجوادی میں ایک سڑک کنارے سموسوں کا اسٹال لگایا تھا۔ اس کا مقصد خاندان کی مالی مشکلات کو کم کرنا تھا۔ یہ انوکھا اسٹال، جو ٹیکنالوجی کے مرکز ٹیکن مہندرا کے کیمپس کے باہر قائم تھا، جلد ہی مقامی افراد اور آئی ٹی سیکٹر میں کام کرنے والے ملازمین میں مقبول ہو گیا۔ بالخصوص رات گئے تک کام کرنے والوں کے لیے یہ ایک پرکشش جگہ بن گئی۔

سوشل میڈیا پر ان کے سموسوں کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیوز نے اس اسٹال کو ایک نئی شناخت دی اور گاہکوں کی قطاریں لگنے لگیں۔ اب حالات بدل چکے ہیں اور ہیمانت، جو اب 18 سال کے ہو چکے ہیں، بتاتے ہیں کہ مستقل دکان کھولنے سے ان کے کام میں بہتری آئی ہے۔ وہ اب موسم کی شدت سے بے پروا ہو کر کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں، جو کہ پہلے سڑک کنارے مشکلات کا سبب بنتی تھی۔ نئی دکان میں بہتر سہولیات نے ان کے کام کو مزید منظم کر دیا ہے۔

ہینجوادی کے کرشنا مارکیٹ میں دکان کھولنے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا۔ اس علاقے میں دفتروں میں کام کرنے والے افراد اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لوگوں کی مسلسل آمدورفت کاروبار کے لیے انتہائی سازگار ثابت ہوئی۔ ہیمانت کو اس مقام کے انتخاب پر پورا بھروسہ ہے کہ یہاں کاروبار خوب چلے گا۔

نئی دکان کا نام "لمپیئنز کچن” رکھا گیا ہے۔ یہ نام ان کے آبائی علاقے لکھیم پور کھیری، اتر پردیش کے مخفف "ایل ایم پی” سے ماخوذ ہے، جو ان کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دکان میں سموسوں کے ساتھ ساتھ دہی سموسہ چاٹ اور چھولے سموسہ چاٹ بھی دستیاب ہیں۔ اگرچہ ابتدا میں سموسے 20 روپے کے تھے، لیکن اب بڑھتی ہوئی لاگتوں، جیسے کہ ایل پی جی کی قلت، کی وجہ سے ان کی قیمت 25 روپے کر دی گئی ہے۔

ان کے مشہور سموسوں کی ترکیب اتر پردیش کے انداز سے متاثر ہے، لیکن ہیمانت اور ان کے بہن بھائیوں نے اسے مہاراشٹر کے ذائقوں کے مطابق ڈھال لیا ہے، جس سے ایک منفرد امتزاج تیار ہوا ہے۔ نیلو دیوی، جو باورچی خانے کی نگرانی کرتی ہیں، بتاتی ہیں کہ ان کے سادہ سے نظر آنے والے سموسے کے پیچھے بہت محنت پنہاں ہے۔ مصروف اوقات میں خاندان کے کچھ دیگر افراد اور دوست احباب بھی مدد کے لیے موجود ہوتے ہیں۔

فی الحال یہ دکان روزانہ 1000 سے 1500 سموسے تیار کرتی ہے، لیکن گاہکوں کی تعداد کے مقابلے میں یہ مقدار اکثر ناکافی ثابت ہوتی ہے۔ عملے اور سازوسامان کی کمی اس کی بڑی وجہ ہے۔ انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے سے ان کے خاندان کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی آئی ہے۔ ہیمانت اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ آن لائن دنیا میں جو شہرت نظر آتی ہے، اس کے پیچھے اصل زندگی میں بے پناہ جدوجہد اور دباؤ موجود ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں