اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ نے اندرونی لائن پرمٹ (ILP) کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے جلد ہی متعلقہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب مختلف قبائلی گروہوں اور کمیونٹی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں نے ILP کے نظام کو مضبوط بنانے اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اندرونی لائن پرمٹ ایک ایسا نظام ہے جو شمالی مشرقی ریاستوں کے مخصوص محفوظ علاقوں میں داخلے کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس پرمٹ کا مقصد ریاست میں غیر مقامی افراد کی آمد کو محدود کرنا اور مقامی قبائلی آبادی کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اروناچل پردیش میں، ہندوستان کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے تمام شہریوں کو، جو ریاست کی طے شدہ قبائل سے تعلق نہیں رکھتے، اس علاقے میں داخلے کے لیے ILP درکار ہوتا ہے۔ یہ نظام برطانوی دور میں 1873 میں مقامی قبائلی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
اروناچل شیدولڈ ٹرائبس بچاؤ آندولن کمیٹی (ASTBAC) جیسی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ ILP کے نفاذ کو مزید سخت کیا جائے اور اسے ریاست کی ثقافتی اور اقتصادی سالمیت کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں کمزوریاں ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر غیر قانونی تارکین وطن ریاست میں داخل ہو سکتے ہیں، جس سے مقامی وسائل اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے ان خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ حکومت اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی ASTBAC اور دیگر کمیونٹی پر مبنی تنظیموں اور متعلقہ افراد کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ ان کے تحفظات کو سنا جا سکے اور مشترکہ طور پر ایک ایسا حل نکالا جا سکے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ یہ اجلاس حکومت کے باہمی مشاورت کے انداز کو ظاہر کرتا ہے، جس میں مقامی احساسات اور پالیسی سازی کے اثرات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
اس بات چیت کا مقصد ILP کے موجودہ نظام کا تفصیلی جائزہ لینا، اس کی افادیت کا تعین کرنا اور ضرورت کے مطابق اصلاحات یا ترامیم پر غور کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایک ایسا حل تلاش کرے گی جو ریاست کی سلامتی کے خدشات اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان توازن قائم کرے۔
اروناچل پردیش ہمیشہ سے بیرونی اثرات کے حوالے سے محتاط رہا ہے، اور ILP نے لوگوں کی آمدورفت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ILP کے گرد گردش کرنے والے تنازعے میں قومی سلامتی، معاشی ترقی اور منفرد ثقافتی شناخت کے تحفظ جیسے اہم پہلو شامل ہیں۔ حکومت کا اس معاملے پر مذاکرات کا بندوبست کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس مسئلے کی حساسیت اور اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
اجلاس کی تاریخ اور ایجنڈے کے بارے میں مزید تفصیلات جلد ہی جاری کی جائیں گی۔ اس اجلاس کے نتائج کا ریاست کے مختلف طبقات کو بے تابی سے انتظار رہے گا، کیونکہ یہ اروناچل پردیش میں مستقبل کی پالیسیوں اور قبائلی حقوق کے تحفظ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
