مہاراشٹر کے ٹھیکیداروں کا 96 ہزار کروڑ روپے کے بقایا جات کے معاملے پر ہڑتال کا انتباہ
ممبئی: مہاراشٹر میں تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے سے وابستہ ٹھیکیداروں نے حکومت کی جانب سے 96 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی رقم کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاست گیر ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ ٹھیکیداروں کی مختلف تنظیموں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے بقایا جات کی فوری ادائیگی کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو وہ کام بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق، ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے مختلف محکموں اور ایجنسیوں کی جانب سے ادائیگیاں کرنے میں طویل تاخیر ہو رہی ہے، جس نے ان کے مالی استحکام اور آپریشنل صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ٹھیکیداروں کے نمائندوں نے بتایا کہ کئی بار حکام سے ملاقاتیں اور درخواستیں دی گئیں، لیکن ان کی شنوائی نہیں ہوئی اور معاملات جوں کے توں ہیں۔ اس صورتحال نے ٹھیکیداروں میں شدید مایوسی پھیلا دی ہے۔
96 ہزار کروڑ روپے کی یہ رقم بہت بڑی ہے اور اس سے ریاست بھر میں ہزاروں چھوٹے، درمیانے اور بڑے ٹھیکیداروں پر پڑنے والے مالی دباؤ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ ٹھیکیدار سڑکوں، پلوں، عوامی سہولیات کی تعمیر اور بنیادی خدمات کی دیکھ بھال جیسے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
ٹھیکیداروں کے نمائندوں نے واضح کیا ہے کہ ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے ان کے پاس نقد کی کمی ہو گئی ہے، جس سے مواد کی خریداری، مزدوروں کی اجرت کی ادائیگی اور دیگر اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، جاری حکومتی منصوبوں کی پیش رفت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جس سے اخراجات میں اضافے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔
ٹھیکیداروں کا مطالبہ ہے کہ ان کے بقایا جات کی فوری ادائیگی کے لیے ایک واضح منصوبہ بنایا جائے اور مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مداخلت نہ کی گئی تو بہت سے کاروباری ادارے دیوالیہ ہو سکتے ہیں، جس سے بے روزگاری بڑھے گی اور تعمیراتی شعبے میں اقتصادی سرگرمیوں میں سست روی آ جائے گی۔
ایک اہم تشویش یہ بھی ہے کہ ادائیگیوں کا نظام شفاف اور مؤثر نہیں ہے۔ ٹھیکیداروں کو اکثر بیوروکریٹک رکاوٹوں اور طویل منظوری کے عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب ادائیگیوں کو بغیر کسی مناسب جواز کے طویل عرصے تک روکے رکھا جاتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث متعلقہ سرکاری محکموں پر نااہلی اور عدم توجہی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
اگر یہ ہڑتال شروع ہوتی ہے، تو اس سے مہاراشٹر میں بہت سے ترقیاتی منصوبے، جن میں ریاست کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی شامل ہیں، رک سکتے ہیں۔ ان میں مختلف ریاستی حکومت کے ادارے، میونسپل کارپوریشنز اور دیگر پبلک سیکٹر کے منصوبے شامل ہیں۔
ٹھیکیداروں کی نمائندہ تنظیموں نے کہا ہے کہ اگر ان کے مطالبات مقررہ وقت میں پورے نہ ہوئے تو وہ اپنے احتجاج کو مزید تیز کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس میں تمام جاری منصوبوں پر کام روک دینا اور حکومتی محکموں کی جانب سے جاری کیے جانے والے کسی بھی مستقبل کے ٹینڈر کا بائیکاٹ کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ یہ تنظیمیں ریاستی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ ان بقایا جات کی ادائیگی کو ترجیح دیں تاکہ ایک ایسے بحران سے بچا جا سکے جس کے دور رس اقتصادی اثرات ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر حکومت نے ماضی میں ٹھیکیداروں کو بقایا جات کی ادائیگی کے مسئلے کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم، موجودہ بقایا رقم کی بہت بڑی مقدار کو دیکھتے ہوئے، ایک جامع اور فوری مالی حل کی ضرورت ہے۔ ٹھیکیدار ٹھوس اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں، جن میں فنڈز کی فراہمی اور ادائیگی کے عمل کو آسان بنانا شامل ہے تاکہ اس بحران کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔
یہ صورتحال ہندوستان میں پبلک پراکیورمنٹ اور ادائیگی کے نظام میں ایک وسیع مسئلے کو اجاگر کرتی ہے، جہاں ٹھیکیدار اکثر تاخیر سے ادائیگیوں کا شکار ہوتے ہیں، جو ان کے آپریشن کو برقرار رکھنے اور قومی ترقی کے اہداف میں حصہ ڈالنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ مہاراشٹر کے ٹھیکیدار اب ایک نازک مو
