امریکی تشویش: خلائی رصدگاہیں، حساس اثاثوں کی خبردار؟

امریکی قومی سلامتی کے خدشات: خلائی اثاثوں کی نشاندہی کا نیا معاملہ

جدید دوربینوں کی صلاحیتوں کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کے لیے نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر، خلائی تحقیق کے لیے تیار کی جانے والی نئی رصدگاہیں، جو کائنات کا مطالعہ کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں، غلطی سے حساس امریکی اثاثوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ اسی تشویش کے پیش نظر، چلی میں زیر تعمیر ایک ارب ڈالر کا منصوبہ، ویرا سی روبن آبزرویٹری، زیر بحث ہے۔

ویرا سی روبن آبزرویٹری کے منصوبے سے وابستہ ماہرین فلکیات نے امریکی قومی سلامتی کے حکام کے ساتھ خصوصی مذاکرات کیے ہیں تاکہ ان خدشات کو دور کیا جا سکے۔ آبزرویٹری کے ڈائریکٹر، ژیلجکو ایوزیچ، نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت میں حصہ لیا ہے کہ دوربین کے آپریشنز امریکی قومی سلامتی کو نقصان نہ پہنچائیں۔ امریکی حکام نے اس معاملے میں انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ بات چیت اکثر نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے نمائندوں کے ذریعے ہوئی ہے۔

ویرا سی روبن آبزرویٹری کو آسمان کے وسیع علاقوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس میں اربوں آسمانی اجسام کی تصاویر لینے کی صلاحیت ہے۔ اگرچہ اس کا بنیادی سائنسی مقصد کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ کو بڑھانا ہے، تاہم اس کی طاقتور امیجنگ صلاحیتیں خفیہ سیٹلائٹس اور دیگر پوشیدہ خلائی جہازوں کا پتہ لگانے اور ان کی نشاندہی کرنے کا بھی امکان رکھتی ہیں۔ خاص طور پر، پینٹاگون اپنے خلائی اثاثوں، بشمول نیشنل ریکونیسنس آفس کے جاسوس سیٹلائٹس، کے بارے میں معلومات کو انتہائی خفیہ رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے، جن کا وجود 1992 تک خفیہ رکھا گیا تھا۔

آبزرویٹری کے جدید الگورتھمز آسمان میں نئی اشیاء، جیسے کہ دھماکہ خیز ستارے یا زمین کے قریب آنے والے دم دار ستارے، کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ تاہم، یہی فعالیت ان اشیاء کی موجودگی کو بھی ظاہر کر سکتی ہے جن کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات نہیں ہیں، بشمول فوجی سیٹلائٹس۔ اس طرح کی معلومات کی عالمی سطح پر حقیقی وقت میں تقسیم کا امکان قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج پیش کرتا ہے۔

ان خدشات کے جواب میں، آبزرویٹری سے پیدا ہونے والے ڈیٹا کے انتظام کے لیے ایک سیکیورٹی معاہدے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں یہ بات چیت شامل ہے کہ امریکی خلائی اثاثوں کے بارے میں حساس معلومات کو ان سروے ٹیلی سکوپس کے عوامی ڈیٹا بیس میں شامل ہونے سے کیسے روکا جائے۔ امریکی حکومت نے دشمن ممالک کے ہاتھ میں یہ حساس معلومات جانے سے روکنے کے لیے اسے ہٹانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

یہ صورتحال صرف ویرا سی روبن آبزرویٹری تک محدود نہیں ہے۔ اگست 2023 میں، سائبر حملوں نے ہوائی میں جیمنی نارتھ ٹیلی سکوپ اور چلی میں جیمنی ساؤتھ ٹیلی سکوپ کے آپریشنز کو عارضی طور پر روک دیا۔ یہ دونوں نیشنل آپٹیکل-انفراریڈ ایسٹرونومی ریسرچ لیبارٹری (NOIRLab) کے زیر انتظام ہیں۔ یہ واقعہ اس کے فوراً بعد پیش آیا جب امریکی نیشنل کاؤنٹر انٹیلیجنس اینڈ سیکیورٹی سینٹر نے امریکی خلائی صنعت کو نشانہ بنانے والے جاسوسی اور سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کیا۔ غیر ملکی عناصر کو یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ تجارتی خلائی شعبے کی امریکہ کی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے اسٹریٹجک اہمیت ہے، اور وہ امریکی خلائی اختراعات کو ایک خطرہ اور ٹیکنالوجی کے حصول کے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔

وسیع تر تناظر میں خلائی شعبے کی عسکریت پسندی اور سائبر وار فیئر کے خلائی اثاثوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی شامل ہے۔ 2019 میں قائم کی جانے والی امریکی اسپیس فورس کو مدار میں امریکی مفادات کی نگرانی اور حفاظت کا کام سونپا گیا ہے، جس میں فوجی سیٹلائٹس کا دفاع اور روزمرہ زندگی کے لیے اہم سسٹمز، جیسے جی پی ایس، کی فعالیت کو یقینی بنانا شامل ہے۔ ان سسٹمز کی سائبر حملوں سے کمزوری اور مخالفین کی جانب سے اینٹی سیٹلائٹ صلاحیتیں تیار کرنے کا امکان امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم خدشات ہیں۔

چیلنج یہ ہے کہ سائنسی دریافت کے حصول کو قومی سلامتی کے مفادات

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں