جموں و کشمیر میں شراب پر پابندی کا معاملہ ایک بار پھر خبروں میں ہے، اور اس بار پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے موقف پر سخت تنقید کی ہے۔ التجا مفتی نے شراب کی فروخت پر مکمل پابندی کے نفاذ میں حکومتی ہچکچاہٹ کو "غیر منطقی” قرار دیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو ہدف تنقید بنایا کہ کچھ مذہبی طبقات کے لیے شراب پر پابندی عائد کرنا مشکل ہے۔ التجا مفتی کا مؤقف ہے کہ اگر ہندو اکثریت والی ریاستوں میں شراب پر کامیابی سے پابندی لگائی جا سکتی ہے، تو پھر جموں و کشمیر میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔
یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ التجا مفتی نے اپنے خدشات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان کے ذریعے ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے دلائل میں تضاد کی نشاندہی کی اور گجرات اور بہار جیسی ہندو اکثریت والی ریاستوں کی مثال دی جہاں شراب پر عائد پابندی کامیابی سے نافذ العمل ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اتوار کے روز گنڈربل میں اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ شراب کی دکانیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو شراب پینا چاہتے ہیں، اور کسی کو بھی مجبور نہیں کیا جا رہا۔ عبداللہ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ انتظامیہ شراب نوشی کو فروغ نہیں دیتی اور اسے ایک ذاتی انتخاب سمجھتی ہے۔
تاہم، التجا مفتی نے ان بیانات کو "انتہائی بدقسمتی کا باعث” قرار دیا اور زور دیا کہ یہ بیان جموں و کشمیر کی اکثریتی آبادی کے مذہبی جذبات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ان کا اشارہ تھا کہ وزیر اعلیٰ کا موقف توقعات کے برعکس ہے اور یہ شراب پر پابندی کے معاملے پر "یو ٹرن” ہو سکتا ہے۔
اس تنقید کے جواب میں، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے تبصروں کو غلط سمجھا گیا ہے اور عوامی ملاقاتوں کے دوران مختصر ریمارکس کو اکثر سیاسی مخالفین سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے دہرایا کہ شراب کی کوئی نئی دکانیں نہیں کھولی گئی ہیں اور ان کی انتظامیہ شراب نوشی کو، خاص طور پر نوجوانوں میں، فروغ نہیں دیتی۔
جموں و کشمیر میں شراب کے ضوابط پر بحث نے سیاسی شخصیات کے مختلف نظریات کو جنم دیا ہے۔ جہاں انتظامیہ ذاتی انتخاب پر مبنی موقف اختیار کیے ہوئے ہے اور شراب نوشی کو فعال طور پر فروغ نہیں دیتی، وہیں التجا مفتی جیسے ناقدین معاشرتی اقدار اور مذہبی جذبات پر ممکنہ اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے سخت پابندی کی پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جموں و کشمیر میں موجودہ پالیسی کے تحت لائسنس یافتہ دکانوں کے ذریعے شراب کی فروخت کی اجازت ہے، جو کہ ایک عرصے سے رائج ہے۔ حکومت کا مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ اگرچہ وہ شراب نوشی کی تائید نہیں کرتی، لیکن وہ ان افراد پر اپنے خیالات مسلط نہیں کرتی جو شراب پینا چاہتے ہیں، بشرطیکہ وہ ذمہ داری اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ایسا کریں۔
یہ تبادلہ خیال مرکزی زیر انتظام علاقے میں سماجی پالیسیوں کے گرد جاری سیاسی مباحث کو اجاگر کرتا ہے، جہاں مختلف سیاسی گروہ شراب کے ضوابط جیسے معاملات پر مختلف طریقہ ہائے کار کی وکالت کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر نے عوامی بحث کے دوران خدشات کو دور کرنے اور انتظامیہ کی پالیسیوں کو واضح کرنے کے لیے تیاری کا اشارہ دیا ہے۔
