میرواعظ کشمیر گھر میں قید، عیدگاہ کی تقریب مشکوک؟

سرینگر: عیدگاہ میں فاتحہ خوانی سے قبل میرواعظ کشمیر کی نظربندی

جموں و کشمیر میں حکام نے بدھ کی شام کو کشمیر کے میرواعظ، ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ یہ اقدام سرینگر کے عیدگاہ میں واقع شہداء قبرستان میں ہونے والی ایک اہم دعائیہ تقریب، فاتحہ خوانی، سے قبل کیا گیا ہے۔

دی چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، حکام نے بدھ کے روز سے ہی عیدگاہ میں واقع مزار شہداء تک رسائی کو بھی محدود کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کا اعلان میرواعظ منزل، جو کہ میرواعظ کشمیر کا دفتر ہے، کی جانب سے جمعرات کو ایک بیان میں کیا گیا۔

میرواعظ کشمیر کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس اقدام سے متعلق تفصیلات جاری کیں۔ پوسٹ میں بتایا گیا کہ سرینگر کے عیدگاہ میں شہداء قبرستان میں ہونے والی فاتحہ خوانی سے قبل، ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو گذشتہ شام دیر گئے ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ گذشتہ روز ہی سے حکام نے قبرستان تک رسائی کو محدود کر دیا تھا۔

ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق، جو کہ کشمیر کی وادی میں ایک نمایاں مذہبی اور سیاسی شخصیت ہیں، اکثر اوقات حکام کی جانب سے نظر اور پابندیوں کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر اہم مذہبی یا سیاسی مواقع پر۔ فاتحہ خوانی شہداء کے خاندان اور ان کے پیروکاروں کی جانب سے ایک سالانہ تقریب ہے، جس میں ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی تھی۔

سرینگر کا عیدگاہ علاقہ ایک اہم تاریخی اور مذہبی مقام ہے، جو اکثر عوامی اجتماعات اور تقریبات کا مرکز ہوتا ہے۔ ایسے موقع سے قبل رسائی کو محدود کرنے اور میرواعظ کو نظر بند کرنے کے فیصلے نے خطے میں نافذ کیے گئے حفاظتی اقدامات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ تاہم، نظربندی اور رسائی کی پابندیوں کی وجوہات کے بارے میں حکام کی جانب سے کوئی فوری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

فاتحہ خوانی ایک روایتی اسلامی طریقہ کار ہے جس میں قرآن مجید کی تلاوت اور مرحومین کے لیے دعائیں شامل ہیں۔ شہداء قبرستان کے تناظر میں، یہ کشمیر میں مختلف تاریخی تنازعات اور افراتفری کے ادوار میں جانیں قربان کرنے والے افراد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

میرواعظ کا عہدہ کشمیر میں ایک موروثی مذہبی قیادت کا منصب ہے، اور ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کئی سالوں سے یہ ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے، جو اپنے والد اور آباؤ اجداد کے علمی ورثے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بیانات اور سرگرمیوں پر خطے کے اندر اور باہر دونوں جگہ سے گہری نظر رکھی جاتی ہے۔

روایتی مذہبی رسومات کے دوران اہم شخصیات پر نظربندی کا اطلاق جموں و کشمیر میں امن و امان کے نظم و نسق کا ایک بار بار دہرایا جانے والا پہلو رہا ہے۔ حکام کی جانب سے ان اقدامات کی وجہ اکثر عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور ممکنہ طور پر کشیدگی میں اضافے کو روکنا بتایا جاتا ہے، حالانکہ ان پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اکثر تنقید کی جاتی ہے جو انہیں شہری آزادیوں کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں