وادی کشمیر میں مئی کے وسط میں برف باری اور شدید بارشوں سے معمولات زندگی درہم برہم
جمرات کے روز شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے بالائی علاقوں میں اچانک برف باری ہوئی، جبکہ دراس اور زوجلہ جیسے علاقوں میں بھی موسم نے اچانک انگڑائی لی۔ دوسری جانب، میدانی علاقوں میں شدید بارشوں نے جہاں گرمی سے کچھ راحت دی، وہیں جگہ جگہ پانی جمع ہونے اور نقصانات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
اطلاعات کے مطابق، کنٹرول لائن کے قریب واقع دور دراز علاقے تولِیل ویلی میں درجہ حرارت میں اچانک گراوٹ کے بعد برف باری ہوئی۔ مقامی افراد کے مطابق، مئی کے دوسرے نصف میں یہ برف باری غیر معمولی ہے، جس نے رہائشی علاقوں اور پہاڑی ڈھلوانوں کو سفید چادر میں لپیٹ دیا۔ زوجلہ اور دراس کے علاقوں میں بھی اسی طرح کے موسمی حالات رپورٹ ہوئے۔
اسی اثنا میں، وادی کے کئی اضلاع بشمول سرینگر، بانڈی پورہ، گاندربل، بارہمولہ اور کپواڑہ میں تیز گرج چمک کے ساتھ شدید بارش ہوئی۔ ان بارشوں نے جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے کچھ سکون فراہم کیا، وہیں سڑکوں پر پانی جمع ہونے اور معمولات زندگی میں عارضی خلل کا باعث بنیں۔
بانڈی پورہ میں، سرینگر-بانڈی پورہ روڈ پر واقع دارالعلوم رحیمیہ کے قریب شدید بارشوں نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی تھی۔ گندگی اور پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گئے، جس سے مکانات کو نقصان پہنچا۔ نسو گاؤں میں نذیر احمد ڈار اور ریاض احمد ڈار کے دو مکانات کو جزوی نقصان ہوا۔ مسکان نامی ایک کمسن بچی سمیت دو افراد زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا جبکہ دوسرے کا علاج ڈسٹرکٹ ہسپتال بانڈی پورہ میں جاری ہے۔
مقامی رہائشیوں نے نکاسی آب کے نظام کی بندش اور پائپ لائنوں کے لیک ہونے کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام کو اس مسئلے سے بارہا آگاہ کیا گیا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ زیر تعمیر ایک نالے کو مبینہ طور پر تنگ کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے شدید بارش کے دوران پانی کا بہاؤ بڑھ گیا۔ متاثرہ خاندانوں نے نقصانات کے ازالے اور سڑکوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ حفاظتی کاموں کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں اور تحصیلدار بانڈی پورہ نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ سرینگر اور دیگر شہروں کے نشیبی علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی میں عارضی رکاوٹ آئی۔ حکام نے سیلاب کے خطرے والے اور کمزور علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
محکمہ موسمیات نے اگلے دو دنوں میں کشمیر اور جموں ڈویژن کے مختلف حصوں میں ہلکی بارش، گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ نے دونوں علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے اور ژالہ باری کے امکانات سے خبردار کیا ہے۔ پیشین گوئی کے مطابق، 22 مئی کو موسم جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے، جس کے دوران کئی مقامات پر ہلکی بارش، گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ محکمہ نے اس دوران کشمیر اور جموں دونوں ڈویژنوں میں چند مقامات پر 40-50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہوائیں، جو 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر سکتی ہیں، اور گرج چمک کے ساتھ ژالہ باری کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔
23 سے 25 مئی تک، موسم صبح کے اوقات میں خشک رہنے کی توقع ہے، جبکہ سہ پہر کے آخر میں چند مقامات پر ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔ 26 سے 28 مئی تک موسم عام طور پر گرم اور خشک رہے گا، جس کے بعد 29 سے 31 مئی کے دوران جزوی طور پر ابر آلود موسم اور چند مقامات پر ہلکی بارش یا گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ حکام نے بدھ کو جموں ڈویژن کے چند مقامات پر گرم اور مرطوب موسم کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں، کشمیر کے کئی مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی۔ پہلگام میں 14.2 ملی میٹر، گلمرگ میں 13.4 ملی میٹر، کپواڑہ میں 1
