مظفر نگر حادثہ: ٹرک سے ٹکر، دو ہلاک، ایک زخمی

اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع میں ایک المناک سڑک حادثے میں ایک کار تیز رفتار ٹرک سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی، موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک دوسری خاتون شدید زخمی ہو گئی۔ یہ افسوسناک واقعہ منگل کے روز پنّا بائی پاس پر پیش آیا، جو کوتوالی تھانے کی حدود میں آتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، یہ افراد شاملی ضلع سے میرٹھ کی جانب سفر کر رہے تھے جب ان کی کار ایک کھڑے ہوئے ٹرک سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار کے اگلے حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق، ٹکر کے فوری بعد کار میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا۔ فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کیں۔

متوفیان کی شناخت ناظم (35 سالہ) اور رویتا (30 سالہ) کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمی خاتون، نَجّو، کو قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنجے کمار نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، کار تیز رفتاری سے آ رہی تھی اور ڈرائیور نے کھڑے ہوئے ٹرک کو بروقت نہیں دیکھا، جس کے باعث یہ خوفناک حادثہ پیش آیا۔

قانون کے مطابق، دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ٹرک عین بائی پاس پر کیوں کھڑا تھا اور اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں۔

اتر پردیش میں سڑک حادثات، خاص طور پر کھڑی گاڑیوں سے ٹکرانے کے واقعات ایک سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ حکام نے مسافروں سے بارہا اپیل کی ہے کہ وہ سڑک پر احتیاط کریں، رفتار کو قابو میں رکھیں اور طویل سفر کے دوران آرام کریں۔ یہ سڑک مغربی اتر پردیش کے کئی اضلاع کو ملانے والا ایک مصروف راستہ ہے۔

ہائی ویز اور بائی پاس پر گاڑیوں کا کھڑا ہونا اکثر حادثات کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ پولیس اس معاملے کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا ٹرک کو غلط جگہ پر کھڑا کیا گیا تھا اور اس کی موجودگی کے بارے میں کوئی انتباہی اشارہ موجود تھا یا نہیں۔

کار کو پہنچنے والے شدید نقصان اور آگ لگنے کے واقعے نے حادثے کی شدت کو واضح کر دیا۔ تاہم، فائر سروسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔

پولیس تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس وقت ترجیح زخمیوں کی مدد اور متوفیان کے لواحقین کو انصاف دلانا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں